Header Ads Widget

Urdu Poetry – Best Urdu Shayari & Ghazals Collection - DARWAISH۔WRITES

 


نماز
Poet: علامہ اقبال
By: Darwaishwrites

بدل کے بھیس پھر آتے ہیں ہر زمانے میں
اگرچہ پیر ہے آدم جواں ہیں لات و منات

یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات

हर युग में फिर आते हैं बदलाव के भेष
 आदम भले ही जवान है, फिर भी वह ज़िंदा है

 यह एक साष्टांग प्रणाम है जिसे आप अनमोल समझते हैं
 वह मनुष्य को एक हजार साष्टांग प्रणाम से बचाता है

Disguises of change come again in every age
 Even though Adam is young, he is still alive

 This is a prostration that you consider precious
 He saves man from a thousand prostrations

EXPLANATION:

۱. بدلتے ہوئے بت (لات و منات)

پہلے شعر میں اقبال ایک بڑی تاریخی اور نفسیاتی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ لات و منات قدیم دور کے بت تھے، لیکن اقبال کے نزدیک بت صرف پتھر کے نہیں ہوتے۔

  • انسان بوڑھا ہو جاتا ہے، تہذیبیں بدل جاتی ہیں، لیکن باطل نظریات (جیسے قوم پرستی، سرمایہ داری، یا انا کی پرستش) ہر دور میں نئے ناموں اور نئے "بھیک" کے ساتھ واپس آتے ہیں۔

  • یہ شعر ہمیں خبردار کرتا ہے کہ ہم صرف قدیم بتوں کو توڑ کر مطمئن نہ ہو جائیں، بلکہ اپنے دور کے جدید بتوں کو پہچانیں۔

۲. ایک سجدے کی قیمت

دوسرا شعر اقبال کے مشہور ترین اشعار میں سے ایک ہے، جو بندگی کے فلسفے کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیتا ہے۔

  • گراں (بھاری): عام طور پر انسان کو اللہ کے سامنے جھکنا مشکل لگتا ہے، لیکن اقبال کہتے ہیں کہ یہ ایک سجدہ بوجھ نہیں بلکہ آزادی ہے۔

  • جب انسان ایک اللہ کے سامنے سر جھکا لیتا ہے، تو اسے دنیا کے ہزاروں "خداؤں" (خوف، لالچ، حکمران اور سماجی دباؤ) کے سامنے جھکنے کی ضرورت نہیں رہتی۔


Post a Comment

0 Comments