Poet: درویش رائٹس
By:Darwaish۔Writes
ہے جو درویش وہ سلطاں ہے یہ معلوم ہوا
بوریا تخت سلیماں ہے یہ معلوم ہوا
دل آگاہ پشیماں ہے یہ معلوم ہوا
علم خود جہل کا عرفاں ہے یہ معلوم ہوا
اپنے ہی واہمے کے سب ہیں اتار اور چڑھاؤ
نہ سمندر ہے نہ طوفاں ہے یہ معلوم ہوا
ڈھونڈنے نکلے تھے جمعیت خاطر لیکن
شہر کا شہر پریشاں ہے یہ معلوم ہوا
ہم نے آبادیٔ عالم پہ نظر جب ڈالی
دل کی دنیا ابھی ویراں ہے یہ معلوم ہوا
انقلاب آپ ہی دنیا میں نہیں آتے ہیں
وہ نظر سلسلہ جنباں ہے یہ معلوم ہوا
بادشاہی بھی نظر آتی ہے محتاج خراج
تاج کشکول گدا یاں ہے یہ معلوم ہوا
ان کے قدموں پہ جو گر جائے وہی قطرۂ اشک
حاصل دیدۂ گریاں ہے یہ معلوم ہوا
ان کی نظروں پہ جو چڑھ جائے وہی ذرۂ خاک
سرمۂ چشم غزالاں ہے یہ معلوم ہوا
ان کے در تک جو پہنچ جائے وہی آبلہ پا
رہبر قافلۂ جاں ہے یہ معلوم ہوا
آبیاری جو کرے خون رگ جاں تو صباؔ
دل ہر ذرہ گلستاں ہے یہ معلوم ہوا

No comments:
Post a Comment